Watch Pakistani dramas, News And other thing about Pakistan which you don't see on your TV screens.
Sunday, February 19, 2012
عراق کا تین سو کلو سونا امریکہ منتقل کرنے کا انکشاف
نائن الیون کے بعد امریکا اور اسلامی دنیا کے تعلقات نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور 2001ءتک امریکی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھنے والے چین کی جگہ اب اسلامی دنیا نے لے لی۔ یوں امریکی پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز عرب ممالک پاکستان اور افغانستان بن گیا۔ امریکی انٹیلی جینس کے شبعوں میں عرب ماہرین کی تعداد تین گنا بڑھ گئی۔ پاکستان اور افغانستان کے خطے سے متعلق علاقائی زبانوں سے واقفیت رکھنے والے لوگوں میں بھی تین گنا اضافہ ہوا۔ امریکی وزارت خارجہ میں عربی بولنے والے 5 سو افراد کو شامل کیا گیا۔ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان زبانوں کے طلباءکی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہوگیا۔ اس یہ جنگ کی تیاری تھی جسے اگلے برسوں میں اسلامی دنیا میں امریکا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے کر لڑنا تھی۔ چنانچہ اسی برس امریکا نے اقوام متحدہ کو بائی پاس کرکے عراق اور افغانستان پر حملہ کردیا۔ تباہ کن میزائیوں اور ہول ناک کلسٹر بموں کی بارش کی گئی اور اس کو کارپٹ بم باری کا نام دیا گیا۔ عراق میں صرف صدام کے محل سے جو خزانہ قبضہ کرکے امریکا منتقل کیا گیا اس میں اسی ارب امریکی ڈالر‘ اربوں ڈالر کے ہیرے جواہرات اور تین سو کلو گرام ذخیرہ کیا گیا سونا تھا جس کو بحری جہازوں کے ذریعے امریکا منتقل کیا گیا۔ حملے سے پہلے ہی یہ طے کرلیا گیا تھا کہ تیل کی پائپ لائن کہاں سے کہاں تک جائیں گی اور تیل کے کنوﺅں میں لگی آگ کو بجھانے کے ٹھیکے کن کمپنیوںکو دیے جائیں گے۔ اسی طرح افغانستان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے بارے میں 11 ستمبر کے واقعے سے قبل امریکا کے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے رپورٹ تیار کرلی تھی کہ یہ ملک مستقبل کا کامیاب ترین ٹرانزٹ روٹ ثابت ہوگا پھر اس کے ذریعے سینٹرل ایشیا کے قدرتی وسائل تک پہنچنا آسان ہوگا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکا عراق اور افغانستان دونوں جگہ ظلم و ستم اور لوٹ مار کے بعد واپسی کے لیے رخت سفر باندھ رہا ہے لیکن امریکا رخصت ہو کر بھی رخصت ہونا نہیں چاہتا اس کے لیے وہ یہاں اپنے فوجی اڈے قائم رکھنا چاہتا ہے اور کٹھ پتلی آلہ کار حکمرانوں کے ذریعے معاملات کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ طالبان کی کامیابی کے باعث افغانستان ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اب امریکا بلوچستان میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے کہ کیوں کہ افغانستان سمیت وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی بلوچستان کے راستوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ چنانچہ بلوچستان کے معاملے کو عالمی مسئلہ بنانے اور بین الاقوامی طور پر اجاگر کرنے کے لیے پچھلے دنوں واشنگٹن میں امریکی کانگریس کمیٹی میں بحث کی گئی۔ اس سماعت سے قبل ایوان بالا کے ایک رکن اپنے مضمون میں مطالبہ کرچکے ہیں کہ امریکا کو خود مختار بلوچستان کی حمایت کرنا چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ بلوچستان بدامنی کا شکار ہے اور وہاں کے معاملات کو خراب کرنے میں حکمرانوں نے بڑا کردار اداکیا ہے لیکن اس بدامنی کو بڑھاوا دینے میں امریکی ہاتھ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان میں لاپتا افراد کے لواحقین کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران آٹھ ہزار سے زائد بلوچ لاپتا ہوئے ہیں اور پچھلے دس سال سے ہی پاکستان دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکا کا اتحادی بنا ہوا ہے۔ اس دوران امریکی ہدایت پر اپنے ہی عوام کے خلاف ہر طرح کی کارروائی ہوتی رہی۔ بلوچستان کے معدنی وسائل کو وہاں کی عوام کے لیے سہولت کا ذریعہ نہیں بنایا گیا۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل نے معاملے کو انتہا تک پہنچادیا حالانکہ 24 اگست 2006ءکو بگٹی قبیلے کی چھ شاخوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ وہ سرداری اور نوابی نظام کو مزید قبول نہیں کریں گے لیکن اس فیصلے کے دو ہی دن بعد پرویزمشرف نے اکبر بگٹی کو ہلاک کروا دیا جس کے باعث بلوچوں میں شدید اشتعال پھیلا جس کو بعد میں غیر ملکی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ موجودہ حکومت نے بلوچستان کے مسئلہ پر ہمیشہ کمزوری اور بے بسی کا اظہار کیا جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ‘ بم دھماکوں‘ لوگوں کے اغوا اور گم نام مقامات پر مسخ شدہ لاشیں پھینکنے میں ایسے لوگ ملوث ہوسکتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے حکومت بھی گھبراتی ہے۔ حال ہی میں فوجی حکام نے اپنی رپورٹ میں بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں وزراءکے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ آغاز حقوق بلوچستان کے خصوصی پیکج کے تین سال گزر جانے کے باوجود کسی قسم کی بہتری اور معاملات میں پیش رفت نہیں ہوئی اس کی وجہ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ ہے۔ اس وقت ضروری ہے کہ بلوچستان کے معاملات پر توجہ دی جائے خصوصاً لاپتا فراد بازیاب کرکے دکھی خاندانوں کے دلوں پر مرہم رکھا جائے۔
Labels:
iraq gold shifted to usa america
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment