Your Ad Here

Saturday, February 25, 2012

ڈینگی بخار پر تحقیقی رپورٹ کا دوسرا حصہ

نیو سائنٹسٹ میگزین، سائنسی تحقیقات شائع کرنے والا نہایت معتبر اور قدیم برطانوی ریسرچ جرنل ہے۔18 فروری1982 کو اس جرنل کا جو شمارہ مارکیٹ میں آیا، اس کے صفحہ نمبر419 پر ایک چھوٹا سا مضمون شائع ہوا، جس کا عنوان تھا’’ قاتل مچھروں کا روسی الزام مشتبہ ہے‘‘۔ یہ مضمون لکھنے والے دو افراد تھے، ان میںسے ایک کا نام ضیاء الدین سردار اور دوسری شخصیت مغربی نام’’ سارا وائٹ‘‘ تھی۔ یہ دونوں کون تھے؟ کسی کو نہیں معلوم، کیونکہ جریدے نے ان دونوں شخصیات کا تعارف مضمون کے ساتھ شائع نہیں کیا اور نا ہی یہ مضمون کسی سائنسی تحقیق پر مشتمل تھا بلکہ یہ ایک وضاحت تھی۔ سارا وائٹ نے لکھا تھا کہ سوویت یونین کے معروف اخبار، لٹریٹر نایا گزٹ، نے 5 فروری1982 کو ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور میں ایک امریکی مرکز مچھروں پر تحقیق کا کام کررہا ہے، اس مرکز کو سی آئی اے اور امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سائنسدان چلا رہے ہیں جب کہ کچھ پاکستانی سائنسدان بھی اس مرکز میں بطور ملازم کام کرتے ہیں۔ اس مرکز کا سربراہ، سی آئی اے کا اہلکار، ڈیوڈ نیلن ہے جب کہ اس مرکز میں تیار کردہ ڈینگی کے وائرس کو، قریبی واقع بستی، گرین ٹائون کے کچھ غریب لوگوں پر آزمایا گیا ہے۔ نیو سائنٹسٹ میگزین کے اس مضمون میںکہا گیا تھا کہ روسی اخبار کے الزام کے مطابق، اس مرکز کا نام’’ پاکستانی میڈیکل ریسرچ سینٹر‘‘ ہے۔ مرکز کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ڈینگی کے ایسے وائرس تیار کرے جو کسی بھی انسان یا جانور میں انجیکٹ کردئے جائیں اور پھر اس جانور یا انسان کو افغانستان بھیج دیا جائے، جہاں اسے دوسرے مچھر کاٹیں گے اور وہ بھی ڈینگی کے وائرس کا کیرئیر بن جائیں گے، اس طرح افغانستان کے کچھ علاقے، جو ڈینگی وائرس کے لئے سازگار ہیں، وہاں بڑے پیمانے پر ڈینگی کی وبا پھیل جائے۔ برطانوی ریسرچ جرنل کے مضمون میںکہا گیا تھا کہ روسی اخبار کی یہ رپورٹ درست نہیں اور حقائق اس سے مختلف ہیں۔ پاکستان میڈیکل ریسرچ سینٹر کراچی میں ہے لاہور میں نہیں، اس طرح رپورٹ کی بنیاد ہی غلط ہے، دراصل امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کی طرف سے جو پروگرام
شروع کیا گیا ہے، وہ لاہور میں
'Malaria Eradication Centre'
کے نام سے کام کرتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستانیوںکو ملیریا سے بچانا ہے۔ اسے سی آئی اے نہیں بلکہ یوایس ایڈ نامی امریکی ادارہ چلا رہا ہے، لاہور میں اس ادارے کو1975 میں قائم کیا گیا تھا۔ روسی الزامات کے بعد یورپ اور امریکہ کے کئی اخبارات نے اس اسٹوری کو شائع کیا، اور روسی خبر رساں ادارے، تاس نے اسے دنیا بھر میں خبر کے طور پر جاری کردیا جس کے بعد پاکستان نے دبائو میں آکر امریکی ریسرچ سینٹر کے سربراہ، ڈیوڈ نیلن کو ملک بدر کردیا اور اب خدشہ ہے کہ یہ سینٹر بند ہو جائے گا اور نقصان پاکستان کا ہی ہو گا۔ یہ پروگرام پاکستان میں ملیریا کے مچھروں پر ریسرچ کے لئے شروع کیا گیا تھا تاکہ پاکستان میںملیریا کا خاتمہ کیا جاسکے، مگر یہ ریسرچ پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکی۔
1982 میں تو امریکہ نے روسی رپورٹ کی تردید کردی تھی، مگر اب، حال میں ہی امریکہ نے اپنی کچھ خفیہ دستاویزات، ڈی کلاسیفائڈ کی ہیں، ان میں سے ایک دستاویز، پاکستان میں اس کے اس ریسرچ سینٹر کے بارے میں ہے، جہاں ڈینگی مچھر سے متعلق ریسرچ کی جا رہی تھی، اس، ڈی کلاسیفائڈ دستاویز کی ایک کاپی، اس نمائندے کے پاس بھی محفوظ ہے۔ اس دستاویز میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کس طرح امریکہ نے لاہور میں ایک ریسرچ مرکز قائم کیا اورکس طرح یہاںمچھروں میں جنیاتی تبدیلی لانے کے لئے ان پر ریسرچ کی۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی امریکی ڈی کلاسیفائڈ امریکی خفیہ دستاویزات، اس نمائندے کو ملی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر روسی حملے کے دور میں، کس طرح افغانستان پر ڈینگی اور دیگر حیاتیاتی ہتھیار استعمال کئے تھے، ان دستاویزات کا تفصیلی ذکر کرنے سے قبل ہم، روسی اخبار لٹریٹر نایا گزٹ کی 5 فروری1982 والی رپورٹ کا ذکر کردیں، یہ رپورٹ روسیوں کے دراصل، لاہور میں ایک کامیاب انٹیلی جنس آپریشن کے بعد تیار کی گئی تھی، اس آپریشن میں وہ نا صرف سی آئی اے کی لاہور میں واقع لیبارٹری میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے بلکہ یہاں کی تصاویر بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خفیہ دستاویزات بھی چوری کرلی تھیں، اسی وجہ سے پاکستان نے فوری طور پر امریکی سی آئی اے افسر، ڈیوڈ نیلن کو ملک بدر کردیا۔ روسی اخبار نے اپنی رپورٹ میںلکھا تھا کہ اس کا ایک رپورٹر،آئین اینڈرونو، لاہور میں کافی عرصے سے امریکی سی آئی اے کے حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے والی لیبارٹری پر کام کررہا تھا اور آخر کار وہ، اس لیبارٹری کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے یہ لیبارٹری گرین ٹائون کے قریب قائم ہے، اس رپورٹر نے اس لیبارٹری میں کام کرنے والے سائنسدانوں کے انٹرویوز کئے اور وہاں سے دستاویزات بھی حاصل کرلیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں ڈینگی مچھروں کے وائرس تیار کئے جا رہے ہیں جنہیں بعد میں افغانستان میں انجیکٹ کردیا جاتا ہے۔ روسی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ اس نے لاہور کے ایسے افراد کو بھی تلاش کرلیا ہے، جنہیں سب سے پہلے سی آئی اے نے اپنے تیار کردہ مچھروں کے تجربات کے لئے استعمال کیا، یہ لوگ گرین ٹائون کے رہنے والے ہیں اور انہیں سی آئی اے کے وائرس سے انفکٹیڈ کرنے کے بعد لاہور کے میو اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا تھا جو یہاں کا سب سے بڑا اسپتال ہے۔ گرین ٹائون کے پانچ افراد کو مچھروں نے کاٹا تھا اور انہیں جب علاج کے لئے میو اسپتال لاہور میںلایا گیا تو وہاں کے ڈاکٹروں نے علاج کے دوران عجیب طرح کی علامات دریافت کیں جو اس سے قبل کبھی بھی اس علاقے میں نہیں دیکھی گئیں تھیں۔ بیمار افراد کو کہنا تھا کہ انہیں عجیب قسم کے مچھر نے کاٹا تھا اور اس کے بعد سے وہ شدید بیمار ہو گئے ہیں۔ روسی اخبار کے رپورٹر نے میو اسپتال لاہور کے ان ڈاکٹروں سے بھی انٹرویوز کئے، جنہوں نے ڈینگی کے ان مریضوں کا علاج کیا تھا۔ان ڈاکٹروں کا بھی کہنا تھا کہ جن مریضوں کو عجیب قسم کے مچھروںنے کاٹا تھا، ان کا علاج کرنے کے لئے امریکی ریسرچ سینٹر نے خدمات پیش کیں اور انہیں کے علاج سے ہی وہ مریض ٹھیک ہو سکے، ورنہ میو اسپتال کے ڈاکٹروں کو اس مرض کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کیا تھا۔ روسی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ لاہور کی امریکی لیبارٹری سے جو دستاویزات، اس کے رپورٹر کو ملی ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے، لاہور کی اس لیبارٹری میں، سی آئی اے، امریکی ادارے، یو ایس ایڈ اور پاکستانی سائنسدانوں کے تعاون سے ملیریا کے مچھروں کی جنیات پر ریسرچ کر کے ایسا وائرس تیار کیا گیا ہے، جسے ڈینگی پھیلانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس وائرس کو جانوروں اور انسانوں کے ذریعے افغانستان بھیجا جا رہا ہے۔ روسی اخبار نے مزید یہ بھی لکھا تھا کہ روسی حکومت اس بارے میں تمام تر شواہد کے ساتھ جلد ہی، یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے والی ہے، کیونکہ افغانستان میں روسی شہری بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ بھی اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال جرم ہے۔ اخبار کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ، مذکورہ لیبارٹری کا سربراہ، امریکی شہری اور سی آئی اے کا اہلکار، ڈیوڈ نیلن ہے۔ اس پروجیکٹ کو یو ایس ایڈ نامی امریکی امدادی ادارہ فنڈ دے رہا ہے جب کہ تحقیق کے کاموں کے لئے امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سائنسدان یہاں موجود ہیں، میری لینڈ یونیورسٹی، اکثر امریکی دفاعی اداروں کے لئے ریسرچ کے کام کرتی رہتی ہے۔ روسی اخبار نے یہ رپورٹ3 فروری1982 کو شائع کی، پھر اسی رپورٹ کو امریکی میڈیا نے11 فروری1982 کو شائع کیا، اس کے بعد مذکورہ رپورٹ کا جواب، برطانوی ریسرچ جرنل میں185 فروری1982 کو دیا گیا۔نیو سائنٹسٹ کے آن لائن ایڈیشن میں اب بھی1982 کا یہ شمارہ دیکھا جا سکتا ہے اور اس کا ایڈریس ہے


source: http://ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=445%3A2011-10-30-09-21-35&catid=28%3A2011-06-09-11-20-04&Itemid=33&lang=ur

0 comments:

Post a Comment

Sociable

Your Ad Here

Disclaimer

www.freepaktv.blogspot.com is absolutely legal and contain only links to other sites on the Internet: (rapidshare.com, megaupload.com, megashare(s), dailymotion.com,youtube.com,songs.pk,stagevu.com and others..) We do not host or upload any video, films, media files (avi, mov, flv, mpg, mpeg, divx, dvd rip, mp3, mp4, torrent, ipod, psp), www.freepaktv.blogspot.com/ www.freepaktv.info is not responsible for the accuracy, compliance, copyright, legality, decency, or any other aspect of the content of other linked sites. If you have any legal issues please contact appropriate media file owners/hosters.